Definition
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کے تذکرہ کی وجہ سے سورۃ النحل کو ''سورۃ النعم'' بھی کہا جاتا ہے۔
اس کا مرکزی موضوع اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا تذکرہ کرکے توحید کو ثابت کرنا اور شرک کی تردید کرنا ہے، ساتھ ساتھ عدل، احسان اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرنا۔
- بارش کا پانی جس سے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور جیسے پھل اگتے ہیں۔
- مویشی (چوپائے) جن سے لباس، خوراک اور سواری حاصل ہوتی ہے۔
- سمندر جس سے تازہ گوشت اور زینت کے زیورات حاصل ہوتے ہیں۔
- شہد کی مکھی سے حاصل ہونے والا شفا بخش شہد۔
Definition
طاغوت: ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کر دے۔
دو گروہوں کا ذکر ہے: منکرینِ حق، جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری اور شرک کرتے اور جھوٹ گھڑتے ہیں؛ اور اہلِ ایمان، جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہوئے عدل و احسان پر عمل کرتے ہیں۔
عدل کا معنی ہے کسی کو اس کے حق کے برابر دینا اور احسان کا معنی ہے حق سے بڑھ کر دینا۔
Rule
النحل 16:89 — وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰي هٰؤُلَاۤءِ ۠ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ — ترجمہ: اور جس دن ہم ہر امت میں ان ہی میں سے ایک گواہ اٹھائیں گے جو ان پر گواہی دے گا، اور ہم آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے اور جو ہدایت اور رحمت اور مسلمانوں کے لیے خوش خبری ہے۔
النحل 16:90 — اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ يَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۤءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ — ترجمہ: بے شک اللہ حکم فرماتا ہے عدل کا اور احسان کا اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا، اور منع فرماتا ہے بے حیائی سے اور برائی سے اور سرکشی سے۔ وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
Definition
سورت میں بت پرستی کی مذمت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ بت کسی چیز کے مالک نہیں، لہٰذا تمام اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک امت کے برابر قرار دیا گیا ہے — اللہ کے فرماں بردار، یکتا پرست، شکر گزار اور شرک سے پاک۔ نبی کریم ﷺ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ حسنہ کی پیروی کا حکم دیا گیا، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے، بہترین انداز میں بحث کرنے اور صبر کرنے کی ہدایت دی گئی۔
- دعوتِ دین کے دو اصول: حکمت کے ساتھ دعوت دینا؛ عمدہ نصیحت کے ساتھ سمجھانا اور اگر بحث ضروری ہو تو بہترین انداز میں کرنا۔
- ذکر = قرآن؛ تبیان = کھول کر بیان کرنے والا؛ الطیبات = پاکیزہ چیزیں؛ الفحشاء = بے حیائی؛ الخبیث = ناپاک چیزیں۔
خلاصہ (Quick Recap)
- ●سورۃ النحل (''سورۃ النعم''): اللہ کی بے شمار نعمتوں سے توحید کا اثبات، شرک کی تردید
- ●نعمتیں: بارش/کھیتی، مویشی، سمندر، شہد
- ●دو گروہ: ناشکرے منکرین (شرک) بمقابلہ پرہیزگار مومنین (عدل و احسان)
- ●اہم آیات: 16:89 (قرآن بطور گواہ/ہدایت/رحمت) اور 16:90 (عدل، احسان، رشتہ داروں کے حقوق؛ بے حیائی/برائی/سرکشی کی ممانعت)
- ●بت بے اختیار؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام = ایک امت کے برابر، دعوتِ دین کا نمونہ (حکمت، عمدہ نصیحت، بہترین بحث، صبر)




