Definition
''الانعام'' کا معنی مویشی ہے؛ اس کی واحد ''اَلنَّعَمُ'' ہے۔
سورۃ الانعام کا مرکزی موضوع عقیدہ توحید، رسالت، آخرت اور معاشرتی زندگی کے احکام کا بیان ہے۔
فضیلت: نبی کریم ﷺ نے قرآنِ مجید کی ابتدائی سات طویل سورتوں کے بارے میں، جن میں سے ایک سورۃ الانعام بھی ہے، ارشاد فرمایا کہ جس نے ان سات طویل سورتوں کو سیکھ لیا وہ ایک بڑا عالم ہے۔ (مسند احمد: 8336)
Definition
سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے کائنات، آسمانوں، زمین اور تخلیقِ انسانی میں غور و فکر کی دعوت دی ہے، توحید کے ناقابلِ انکار دلائل اللہ کی صفات اور قدرت کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔
پھر رسالت اور آخرت (قیامت کے دن) کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، اور اسلام کے بنیادی عقائد پر کفار و مشرکین کے اعتراضات ان کے نہایت احسن جوابات کے ساتھ ذکر کیے گئے ہیں۔
توحید کے دلائل کے بعد حلال و حرام کے مسائل بیان کیے گئے ہیں جن میں مشرکین کے خود ساختہ اصولوں کی نفی کی گئی ہے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام کا ذکر ہے جنہوں نے اپنی قوموں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے خبردار کیا۔
سورت کا اختتام (آیات 151-153) دس بنیادی اخلاقی و معاشرتی احکام پر ہوتا ہے، تاکہ انسان اللہ کے سیدھے راستے پر قائم رہے۔
Definition
مشرکین نے اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر بعض جانوروں اور کھیتی میں سے اللہ اور اپنے بتوں کے لیے الگ الگ حصہ مقرر کر رکھا تھا۔
انہوں نے کچھ جانوروں کو خود ہی حلال اور کچھ کو حرام قرار دے رکھا تھا، اور بعض جانوروں کو صرف مردوں کے لیے حلال اور عورتوں پر حرام سمجھتے تھے — ایسے اصول جن کی وحی میں کوئی بنیاد نہیں۔
Remember
نبی کریم ﷺ کو نصیحت کی گئی کہ حق کی دعوت صاف اور واضح انداز میں دیں؛ مشرکین کے اعراض اور جھٹلانے پر غمگین نہ ہوں؛ ایمان لانے والوں کو جو اپنے رب کو پکارتے ہیں اپنے سے دور نہ کریں؛ اور یہ فرما دیں کہ آپ کے پاس اللہ کے خزانے یا غیب کا علم نہیں بلکہ آپ صرف اس وحی کی پیروی کرتے ہیں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
Rule
آیت 151 — وَلَا تَقْتُلُوٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ — ترجمہ: اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں اور انہیں رزق دیتے بھی ہیں، اور بے حیائی کے قریب مت جاؤ جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، اور ناحق اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔
آیت 152 — وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ۖ وَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰي ۖ وَبِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا — ترجمہ: اور یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ مگر اس طریقے سے جو بہت اچھا ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پورا کرو، ہم کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے، اور جب بھی بات کرو تو عدل کرو اگرچہ کوئی رشتہ دار ہی ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔
آیت 153 — وَاَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۚ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ — ترجمہ: اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس اس کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو کہ وہ (اس کے راستے سے) تمہیں دور کر دیں، یہی اللہ تمہیں وصیت فرماتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔
خلاصہ (Quick Recap)
- ●''الانعام'' = مویشی (واحد: النَّعَمُ)
- ●مرکزی موضوع: توحید، رسالت، آخرت، اور معاشرتی احکام
- ●فضیلت: ابتدائی سات طویل سورتوں میں سے ایک (مسند احمد 8336)
- ●مشرکین کے خود ساختہ اصولوں کی نفی — اللہ اور بتوں کے درمیان جانوروں/کھیتی کی تقسیم
- ●نبی کریم ﷺ کو ہدایت: حق کی واضح دعوت، رد پر غم نہ کرنا، مومنوں کو دور نہ کرنا، غیب کے علم کا انکار
- ●آیات 151-153: دس احکام — شرک نہ کرنا، والدین سے حسنِ سلوک، تنگ دستی سے اولاد کا قتل نہ کرنا، بے حیائی سے اجتناب، ناحق قتل نہ کرنا، یتیم کے مال کی حفاظت، منصفانہ ناپ تول، عادلانہ گفتگو، اللہ کے عہد کی تکمیل، سیدھے راستے کی پیروی




