Punjab Board · New syllabus 2026

10th Class Tarjama-tul-Quran Chapter 11 Notes

Surah Al-Mu'minun · in Urdu

Definition

سُوۡرَةُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ قرآنِ مجید کی تئیسویں اور مکی سورت ہے، جس میں چھ رکوع اور ایک سو اٹھارہ آیات ہیں۔


اس کا مرکزی موضوع نبی کریم ﷺ کے اتباع کی دعوت ہے، جس کا آغاز کامیاب مومنین کی صفات سے ہوتا ہے۔


ابتدائی دس آیات کی حدیث: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ''مجھ پر دس ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ جو شخص انہیں قائم کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا''، پھر آپ ﷺ نے ''قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ'' سے دسویں آیت تک تلاوت فرمائی۔

Rule

المؤمنون 23:1-4 — قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ وَالَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّکٰوةِ فٰعِلُوْنَ — ترجمہ: یقیناً ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ اور وہ جو بے کار باتوں سے دور رہنے والے ہیں۔ اور وہ جو زکوٰۃ دینے والے ہیں۔


المؤمنون 23:8-11 — وَالَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ وَالَّذِیْنَ هُمْ عَلٰی صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ — ترجمہ: اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہد کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ جنتِ فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Definition

انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا گیا، پھر نطفہ بنا کر محفوظ جگہ (رحمِ مادر) میں رکھا گیا، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، پھر ہڈیوں پر گوشت، پھر ایک نئی تخلیق کے طور پر وجود بخشا گیا۔ ''بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے۔'' یہ اللہ کی توحید و قدرت اور دوبارہ زندہ کیے جانے کی دلیل ہے — یہ ذکر عقیدہ آخرت کو مضبوط کرتا ہے۔

Definition

حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا: قوم نے انہیں بشر قرار دے کر جھٹلایا، اللہ کے حکم سے کشتی بنائی گئی؛ اہلِ ایمان اور مخلوقات کے جوڑے بچا لیے گئے جبکہ جھٹلانے والے طوفان میں غرق ہوئے۔ بعد کی امتوں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ہلاک ہوئیں، بشمول حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے فرعون کی طرف بھیجے جانے کے بعد۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو اللہ کی ایک نشانی قرار دیا گیا۔ تمام انبیاء کو پاکیزہ چیزیں کھانے اور نیک عمل کا حکم دیا گیا؛ سب کا دین ایک ہی ہے، مگر لوگوں نے اسے فرقوں میں تقسیم کر دیا۔

Definition

کفارِ مکہ نے رسول کا انکار محض اس لیے کیا کہ وہ ان جیسے بشر تھے، اور مٹی و ہڈیاں بننے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کیا — حالانکہ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ زمین، آسمان اور عرشِ عظیم اللہ ہی کا ہے۔ قیامت کے دن جن کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا وہ کامیاب ہوں گے، اور جن کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ نقصان اٹھانے والے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے۔ سورت اس حقیقت پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا، سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے، اور دعا پر اختتام: ''اے میرے رب! بخش دے اور رحم فرما، اور تُو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔''

خلاصہ (Quick Recap)

  • ●سُوۡرَةُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ: تئیسویں سورت، مکی، 6 رکوع، 118 آیات؛ موضوع — نبی کریم ﷺ کے اتباع کی دعوت، کامیاب مومنین کی صفات
  • ●مومنین: نماز میں عاجزی، بے کار باتوں سے اجتناب، زکوٰۃ، شرم گاہوں کی حفاظت، امانت/عہد کی پاسداری، نماز کی حفاظت → جنتِ فردوس کے وارث
  • ●تخلیق کے مراحل: مٹی → نطفہ → علقہ → مضغہ → ہڈیاں → گوشت → نئی تخلیق (توحید/حشر کی دلیل)
  • ●نوح کی کشتی نے مومنین کو بچایا؛ موسیٰ/ہارون فرعون کی طرف بھیجے گئے؛ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ اللہ کی نشانی؛ ایک ہی دین، بعد میں فرقوں میں تقسیم
  • ●قیامت: بھاری پلڑا = کامیابی، ہلکا پلڑا = نقصان؛ اختتامی دعا بخشش و رحمت کے لیے

Keep going

More 10th Class Tarjama-tul-Quran notes

All 10th Class Tarjama-tul-Quran chapters