Punjab Board · New syllabus 2026

10th Class Tarjama-tul-Quran Chapter 5 Notes

Surah Ar-Ra'd · in Urdu

Definition

سورۃ الرعد قرآن مجید کی تیرہویں اور مدنی سورت ہے، جس میں چھ رکوع اور تینتالیس آیات ہیں، اور آغاز حروفِ مقطعات ''المٓر'' سے ہوتا ہے۔


رعد سے مراد بادلوں کی گرج ہے، یعنی وہ آواز جو بادلوں کے ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کی ایک نشانی ہے۔


اس کا مرکزی موضوع توحید کا اثبات اور شرک کی مذمت ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے دلائل اور مومنین و کفار کی متضاد صفات و انجام کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔

  • آسمانوں کا بغیر نظر آنے والے ستونوں کے قائم ہونا، اور اللہ تعالیٰ کا عرش پر جلوہ فرما ہونا۔
  • سورج اور چاند کا مسخر ہونا، ایک مقررہ مدت تک چلنا۔
  • زمین کا پھیلایا جانا، اس میں پہاڑوں اور نہروں کا بنایا جانا اور مختلف پھلوں اور کھیتوں کا پیدا کرنا۔

Definition

بجلی، گرج اور سیلاب کی مثال کے ذریعے حق و باطل کی وضاحت کی گئی ہے: جس طرح سیلاب کی بے کار جھاگ بہہ کر ختم ہو جاتی ہے اور فائدہ مند پانی زمین میں رہ جاتا ہے، اسی طرح باطل مٹ جاتا ہے اور حق قائم رہتا ہے۔

Definition

اہلِ ایمان اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور میثاق نہیں توڑتے؛ صلہ رحمی کرتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں۔ ان کے لیے جنت کی خوشخبری ہے جس میں وہ اپنے نیک آبا و اجداد، بیویوں اور اولاد سمیت داخل ہوں گے۔ اس کے برعکس، عہد شکنوں اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کے لیے لعنت اور بُرا ٹھکانا ہے۔

  • ''کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ کہہ دیجیے: اللہ۔''
  • ''کہہ دیجیے کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ اکیلا اور سب پر غالب ہے۔''
  • ''کہہ دیجیے کہ مجھے صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں۔''

Remember

دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں محض متاعِ قلیل قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا اور انہیں جھٹلایا گیا، مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق کو غالب کیا؛ آپ ﷺ کو بار بار حکم دیا گیا کہ توحید اور اپنی رسالت کا برملا اعلان کریں، اور یہ بتائیں کہ اللہ ہی ان کے اور کفار کے درمیان کافی گواہ ہے۔

Rule

القمر 54:10 (بے بسی کے وقت کی دعا) — اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ — ترجمہ: بے شک میں مغلوب ہوں پس تُو ہی بدلہ لے۔


القصص 28:21 (ظالموں سے نجات کی دعا) — رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ — ترجمہ: اے میرے رب! مجھے ظالم قوم سے نجات عطا فرما۔

خلاصہ (Quick Recap)

  • ●سورۃ الرعد: تیرہویں سورت، مدنی، 6 رکوع، 43 آیات؛ ''رعد'' = بادلوں کی گرج (اللہ کی قدرت کی نشانی)
  • ●مرکزی موضوع: توحید کا اثبات، شرک کی مذمت
  • ●قدرت کے دلائل: بغیر ستونوں کے آسمان، مسخر سورج/چاند، پہاڑوں/نہروں/پھلوں سمیت پھیلی زمین
  • ●سیلاب کی مثال: بے کار جھاگ (باطل) بہہ جاتی ہے، فائدہ مند پانی (حق) باقی رہتا ہے
  • ●مومنین کی صفات: عہد پورا کرنا، صلہ رحمی، خوفِ الٰہی، نماز، خرچ، برائی کا جواب بھلائی سے → جنت؛ عہد شکن → لعنت
  • ●''کہہ دیجیے'' کے اعلانات: اللہ آسمان/زمین کا رب، ہر چیز کا خالق، اکیلا لائقِ عبادت
  • ●اہم آیات: القمر 54:10 (بے بسی)، القصص 28:21 (ظالموں سے نجات)

Keep going

More 10th Class Tarjama-tul-Quran notes

All 10th Class Tarjama-tul-Quran chapters