Definition
سُوۡرَۃُ الشُّوۡرٰی ایک مکی سورت ہے، جو ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں اس دور میں نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور مشرکینِ مکہ آپ ﷺ کی دعوت کو ٹھکرا کر آپ ﷺ کو تکلیف پہنچا رہے تھے۔ ترتیبِ نزول میں یہ باسٹھویں اور ترتیبِ مصحف میں بیالیسویں سورت ہے، جس میں پانچ رکوع اور تریپن آیات ہیں۔
اس کا مرکزی موضوع عقائد ہے، اور اس کے نام سے مشاورت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
Definition
نبی کریم ﷺ کی ذمہ داری صرف اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے، ایمان پر مجبور کرنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی کہ اگر مشرکین دعوت قبول نہ کریں تو رنجیدہ نہ ہوں، کیونکہ آپ ﷺ ان کے نگران نہیں بنائے گئے اور نہ ہی ان کے اعمال کے ذمہ دار ہیں؛ ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ جیسا حکم دیا گیا ہے ویسے ہی دعوت دیں، لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اور اللہ کی نازل کردہ ہر کتاب پر ایمان کا اعلان کریں۔
Definition
اللہ تعالیٰ نے وہی دین مقرر فرمایا جو حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو دیا، یعنی دین پر قائم رہنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا؛ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی طرف رہنمائی دیتا اور جو رجوع کرے اسے اپنی طرف بلا لیتا ہے۔
Rule
الشوریٰ 42:37 — وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَ — ترجمہ: اور وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں۔
الشوریٰ 42:38 — وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰی بَیْنَهُمْ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ — ترجمہ: اور جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کا معاملہ آپس کے مشورے سے طے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
Remember
مشاورت ایک اہم قرآنی اصول ہے، جس سے بہترین رائے سامنے آتی ہے اور نتیجے تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو بھی وحی کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا، تاکہ باہمی اتحاد، اعتماد اور اجتماعی زندگی مضبوط ہو — اسی اہمیت کے پیشِ نظر اس سورت کا نام سُوۡرَۃُ الشُّوۡرٰی رکھا گیا ہے، اور آپس کے مشورے سے معاملات طے کرنا حقیقی مومنین کی صفت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
Definition
اللہ تعالیٰ انسان سے تین طریقوں سے کلام کرتا ہے: (۱) وحی کے ذریعے، یعنی براہِ راست دل میں بات ڈال کر۔ (۲) پردے کے پیچھے سے، یعنی بغیر دکھائی دیے آواز کے ذریعے۔ (۳) کسی فرشتے (رسول) کو بھیج کر، جو اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی پہنچا دیتا ہے۔
Rule
الشوریٰ 42:23 (نبی کریم ﷺ کا مانگا گیا واحد اجر) — قُلْ لَّآ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی — ترجمہ: آپ (ﷺ) فرما دیجیے میں تم سے اس پر قرابت کی محبت کے سوا کوئی اجر نہیں مانگتا۔
جامع ترمذی 3786 (ہدایت کے لیے چھوڑی گئی دو چیزیں) — یَآ اَیُّهَاالنَّاسُ اِنِّیْ قَدْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ مَآ اِنِ اَخَذْتُمْ بِهٖ لَنْ تَضِلُّوْا کِتَابَ اللّٰهِ وَ عِتْرَتِیْ اَهْلَ بَیْتِیْ — ترجمہ: اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری میری عترت یعنی اہلِ بیت ہیں۔
خلاصہ (Quick Recap)
- ●سُوۡرَۃُ الشُّوۡرٰی: مکی، ترتیبِ نزول میں 62ویں/مصحف میں 42ویں، 5 رکوع، 53 آیات؛ موضوع — عقائد؛ نام سے مشاورت کی اہمیت واضح
- ●نبی کریم ﷺ کی ذمہ داری: صرف پیغام پہنچانا، ایمان پر مجبور کرنا نہیں؛ دوسروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں
- ●نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام کو ایک ہی دین دیا گیا — قائم رہنا، تفرقہ نہ ڈالنا
- ●مومنین کی صفات (42:37-38): بڑے گناہوں سے اجتناب، غصے میں معافی، اللہ کا حکم ماننا، نماز، مشاورت (شوریٰ)، اس کی راہ میں خرچ
- ●اللہ کے کلام کرنے کے طریقے: براہِ راست وحی، پردے کے پیچھے سے، یا فرشتہ/رسول کے ذریعے
- ●اہم آیات: 42:23 (اجر = قرابت کی محبت)، ترمذی 3786 (قرآن + اہلِ بیت بطور ہدایت)




