Punjab Board · New syllabus 2026

10th Class Tarjama-tul-Quran Chapter 12 Notes

Surah Az-Zumar · in Urdu

Definition

سُوۡرَۃُ الزُّمَرِ قرآنِ مجید کی انتالیسویں اور مکی سورت ہے، جس میں آٹھ رکوع اور پچھتر آیات ہیں۔ ''زُمَر'' کا معنی گروہ ہے۔


سورت کے آغاز میں بتایا گیا ہے کہ کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غالب، بڑی حکمت والا ہے، اور نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کریں۔


فضیلت کی حدیث: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ الزمر کی تلاوت کیے بغیر نہیں سوتے تھے۔

  • اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا؛ وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور سورج و چاند کو مسخر کر رکھا ہے، ہر ایک ایک مقررہ مدت تک چلتا ہے۔
  • اس نے انسان کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے اتارے۔
  • وہ انسان کو ماؤں کے پیٹ میں تین تاریکیوں کے پردوں میں مختلف مراحل سے پیدا کرتا ہے۔
  • اگر کفار سے پوچھا جائے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ اللہ نے — پھر بھی وہ اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہیں۔
  • تمام سفارش صرف اللہ کی ملکیت ہے اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کرسکتا۔
  • اللہ ہی موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جس کی موت کا فیصلہ ہو چکا ہو اس کی روح نیند میں بھی روک لیتا ہے اور دوسری کو مقررہ مدت تک واپس بھیج دیتا ہے۔

Definition

مومنین رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے اور قیام کرتے ہوئے عبادت کرنے والے، آخرت سے ڈرنے والے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھنے والے ہیں؛ وہ بات کو غور سے سنتے اور اس کی بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں؛ اور وہ نیکی کرنے والے ہیں جن کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت میں بےحساب اجر۔

Rule

الزمر 39:53 — قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ — ترجمہ: فرما دیجیے! اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، بے شک وہ بہت بڑا بخشنے والا، انتہائی رحم فرمانے والا ہے۔

Definition

جب اللہ قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا تو حضرت اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ پہلی مرتبہ صور پھونکے جانے پر آسمانوں اور زمین کی ہر چیز بے ہوش ہو کر گر جائے گی سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔ دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے۔ زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا، انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا، کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ پھر کافروں کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف اور نیک لوگوں کو گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا اور سلامتی کے ساتھ اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔

Rule

المؤمنون 23:26 (جھوٹے الزام میں فتح کی دعا) — رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذَّبُوْنِ — ترجمہ: اے میرے رب! میری مدد فرما کیوں کہ انھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔


الشعراء 26:85 (حصولِ جنّت کی دعا) — وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِ — ترجمہ: اور مجھے بنا دے نعمتوں والی جنّت کے وارثوں میں سے۔

خلاصہ (Quick Recap)

  • ●سُوۡرَۃُ الزُّمَرِ: انتالیسویں سورت، مکی، 8 رکوع، 75 آیات؛ ''زُمَر'' = گروہ؛ آغاز اخلاص کے ساتھ عبادت کے حکم سے
  • ●توحید کے دلائل: تخلیق، رات/دن، سورج/چاند، ایک جان سے انسان، رحمِ مادر کے مراحل، سفارش صرف اللہ کی، موت/نیند
  • ●مومنین: رات کو عبادت، خوفِ آخرت، بہترین بات کی پیروی، نیک اعمال پر اجر
  • ●39:53 — اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا، وہ سارے گناہ بخشتا ہے
  • ●قیامت: 2 صور (اسرافیل علیہ السلام)، زمین کا نور سے چمکنا، اعمال نامہ، حق کے ساتھ فیصلہ، گروہ در گروہ کافر/نیک
  • ●دیگر اہم آیات: المؤمنون 23:26، الشعراء 26:85

Keep going

More 10th Class Tarjama-tul-Quran notes

All 10th Class Tarjama-tul-Quran chapters