Definition
سورۃ بنی اسرآءیل کا دوسرا نام ''سورۃ سبحان'' ہے۔ اسراء کا معنی ہے رات کو سیر کرانا۔
سورت کا آغاز واقعۂ اسراء سے ہوتا ہے — اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے (نبی کریم ﷺ) کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ کی طرف رات کا سفر کرایا — اور پھر معراج کے ذریعے آسمانوں کی سیر کرائی۔
معراج رجب کی ستائیسویں شب کو پیش آیا: نبی کریم ﷺ نے مختلف آسمانوں پر سابقہ انبیاء سے ملاقات کی، جنت اور دوزخ کا نظارہ کیا اور سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے؛ اسی رات پانچ وقت کی نماز فرض ہوئی۔ یہ پورا سفر ایک ہی رات میں مکمل ہوا — نبی کریم ﷺ کے عظیم معجزات میں سے ایک۔
فضیلت کی حدیث: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۃ بنی اسرآءیل اور سورۃ الزمر کی تلاوت نہ فرما لیتے۔ (ترمذی: 3405)
- صرف اللہ کی عبادت کرنا۔
- والدین کے ساتھ حسنِ سلوک؛ اگر ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہنا، نہ جھڑکنا، بلکہ نہایت ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے عاجزی سے جھکے رہنا۔
- رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دینا، فضول خرچی اور بخل دونوں سے بچنا۔
- تنگ دستی کے خوف سے اولاد کو قتل نہ کرنا۔
- زنا کے قریب نہ جانا۔
- ناحق کسی جان کو قتل نہ کرنا۔
- یتیم کے مال کی جوانی تک حفاظت کرنا۔
- وعدہ اور عہد پورا کرنا۔
- ناپ تول انصاف سے کرنا۔
- بغیر علم کے کسی بات کی پیروی نہ کرنا اور زمین میں تکبر سے نہ چلنا۔
Definition
حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا قصہ بیان ہوا ہے کہ کس طرح ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کر کے سرکشی اختیار کی اور انسان کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو عزت دینے، خشکی و تری میں سواریاں دینے اور پاکیزہ رزق سے نوازنے کا بھی ذکر فرمایا۔
مکہ کے مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے معجزات کا مطالبہ کیا، جیسے زمین سے چشمے جاری کرنا یا فرشتہ اتارنا — انہیں جواب دیا گیا کہ رسول تو بشر ہی ہوتے ہیں۔
چیلنج دیا گیا کہ اگر انسان و جن سب مل کر بھی کوشش کریں تو قرآن جیسی سورت نہیں لا سکتے۔
Rule
بنی اسرآءیل 17:23 — وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا — ترجمہ: اور آپ کے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں ان میں سے ایک یا دونوں تو انہیں اُف نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو۔
بنی اسرآءیل 17:24 (والدین کے لیے رحمت کی دعا) — رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا — ترجمہ: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔
بنی اسرآءیل 17:80 (آغاز و انجام کی خیر اور نصرتِ الٰہی کی دعا) — رَبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا — ترجمہ: اے میرے رب! مجھے سچائی کے ساتھ داخل فرما اور سچائی کے ساتھ ہی نکال، اور مجھے اپنے پاس سے غلبہ اور مدد عطا فرما۔
بنی اسرآءیل 17:31-32 — وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْأً كَبِيْرًا وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَسَآءَ سَبِيْلًا — ترجمہ: اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے خوف سے قتل نہ کرو، ہم انہیں رزق عطا فرماتے ہیں اور تمہیں بھی۔ بے شک انہیں قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔
بنی اسرآءیل 17:34 — وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُوْلًا — ترجمہ: اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
Definition
قرآنِ مجید سیدھی راہ دکھاتا ہے اور نیک اعمال کرنے والے مومنوں کو بڑے اجر کی خوش خبری دیتا ہے؛ اور یہ مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔
خلاصہ (Quick Recap)
- ●سورۃ بنی اسرآءیل (''سورۃ سبحان''): آغاز اسراء (مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ) اور معراج (27 رجب، نماز فرض ہوئی) سے
- ●حقوق العباد: توحید، والدین سے حسنِ سلوک (اُف نہ کہنا)، رشتہ داروں/مسکینوں/مسافروں کے حقوق، اولاد کا قتل نہیں، زنا نہیں، ناحق قتل نہیں، یتیم کا مال، وعدہ پورا کرنا، انصاف سے ناپ تول، تکبر نہیں
- ●آدم/ابلیس کا قصہ؛ قرآن کا چیلنج — انسان و جن مل کر بھی اس جیسی سورت نہیں لا سکتے
- ●اہم آیات: 17:23-24 (والدین)، 17:80 (آغاز و انجام کی خیر)، 17:31-32 (اولاد کا قتل نہیں/زنا نہیں)، 17:34 (یتیم/وعدہ)
- ●قرآن کی صفات: ہدایت + نیک اعمال پر بڑا اجر؛ مومنوں کے لیے شفا اور رحمت




