Definition
وادیِ حجر مدینہ منورہ اور شام کے درمیان واقع دو پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو کہتے ہیں؛ یہاں قومِ ثمود آباد تھی، جن کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا گیا۔
اس سورت کا مرکزی موضوع الٰہی قدرت کی نشانیاں، قرآنِ مجید، صاحبِ قرآنِ مجید اور صاحبِ قرآن کی حقانیت کا بیان ہے۔
فضیلت (حدیث): ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے قرآن مجید سکھانے کی درخواست کی؛ آپ ﷺ نے اسے ''الٓر'' سے شروع ہونے والی تین سورتیں پڑھنے کو کہا۔ (سنن ابی داؤد: 1399)
Rule
الحجر 15:9 — اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ — ترجمہ: بے شک ہم ہی نے (اس) ذکر (قرآن) کو نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی ضرور حفاظت فرمانے والے ہیں۔
Definition
سورت کے آغاز میں قرآنِ مجید اور نبی کریم ﷺ کے حوالے سے مشرکینِ مکہ کے بے بنیاد اعتراضات کا آسان اُسلوب میں جواب دیا گیا ہے کہ یہ قرآنِ مجید خالصتاً اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اسی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور وہ خود اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ سابقہ اقوام میں جب رسول مبعوث فرمائے گئے تو ان اقوام نے انہیں جھٹلایا اور سرکشی کی، بالآخر ہٹ دھرمی کے باعث انہیں تباہ و برباد کردیا گیا۔
- ستونوں کے بغیر آسمان کی تخلیق کی گئی، خوب صورت ستارے بنائے گئے۔
- وسیع و عریض زمین اور اس کا توازن قائم کرنے کے لیے پہاڑوں کو جمایا گیا۔
- زمین میں ہر چیز کو ٹھیک انداز سے اگایا گیا اور اس سے مخلوقات کی روزی کا سامان مہیا کیا گیا۔
- بادلوں والی ہواؤں کو بھیج کر بارش برسائی گئی۔
- زندگی اور موت کا مالک وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے انسان کو مٹی سے اور جنات کو دھویں کے بغیر آگ سے پیدا فرمایا۔
Definition
حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا قصہ بیان کیا گیا ہے، ساتھ ہی متقی لوگوں کے اچھے انجام اور مشرکین کے برے انجام کا ذکر کر کے اہلِ مکہ کو تکبّر سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ سورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے مہمانوں (فرشتوں) کا بھی تذکرہ ہے جو ان کے پاس خبر لے کر آئے۔
خلاصہ (Quick Recap)
- ●سورۃ الحجر: قومِ ثمود کی وادی کے نام پر، جن کی طرف صالح علیہ السلام بھیجے گئے؛ مرکزی موضوع — اللہ کی قدرت، قرآن، اس کی حقانیت
- ●اہم آیت 15:9: اللہ نے قرآن نازل کیا اور خود اس کی حفاظت کرے گا
- ●مکی کفار کے قرآن اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں بے بنیاد اعتراضات کا جواب
- ●قدرت کے دلائل: بغیر ستونوں کا آسمان، ستارے، زمین/پہاڑ، بارش، انسان (مٹی) اور جنات (دھویں کے بغیر آگ) کی تخلیق
- ●آدم/ابلیس کا قصہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرشتہ مہمان؛ سبق: تکبر چھوڑنا




