Definition
یہ سفرنامہ جمیل الدین عالی کے سفرنامے 'دنیا میرے آگے' سے لیا گیا ہے۔ یہ کوفہ سے بابل کے قدیم کھنڈرات کی طرف سفر بیان کرتا ہے، بغداد سے تقریباً پینتالیس سے پچاس میل دور، ایک غریب مگر خوش مزاج عراقی گائیڈ کی رہنمائی میں جو روانی سے انگریزی بولتا ہے، مصنف کے ساتھی میر خلیل الرحمٰن کے ساتھ۔
Definition
بابل، دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان واقع، انسانی تاریخ کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے؛ اس کی تحریری تاریخ تقریباً 3,700 سال پیچھے شہنشاہ حمورابی (اٹھارویں صدی قبل مسیح) تک جاتی ہے، جس نے معاشرے کو اس کا پہلا آئین اور قانون کا ضابطہ دیا، اسے 'قانون ساز' کا خطاب دلاتے ہوئے۔
حمورابی کا بابل چھٹی صدی قبل مسیح (سولہویں صدی قبل مسیح) میں غیرملکی حملہ آوروں سے بڑی حد تک تباہ ہوا اور صرف ساتویں صدی قبل مسیح میں طاقتور شہنشاہ بخت نصر (نبوکدنضر) کے دور میں اپنی پرانی شان دوبارہ پائی، جس نے چوالیس سال حکومت کی اور شاندار محلات، تیرہ ایکڑ کا شاہی حصہ، اور بیلوں، شیروں، اور اژدہوں کی تصاویر سے سجی مشہور چمکدار اینٹوں والا اشتار گیٹ بنایا۔
یہی وہ بابل ہے جہاں سکندرِ اعظم، ہندوستان فتح کر کے واپسی پر، مسلسل تین دن اور تین راتیں جشن مناتا رہا اس سے پہلے کہ بیمار ہو کر تین دن میں وفات پا جائے — اور یہی وہ بابل ہے جسے بعد میں ایرانی شہنشاہ سائرس نے بخت نصر کے خاندان کے زوال کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا۔
Definition
روایت کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے، ہاروت اور ماروت، بابل کے لوگوں کے گناہ آلود رویے کی جانچ کے لیے بھیجے؛ اس کام کے دوران، فرشتے خود انہی آزمائشوں میں الجھ گئے جن کی جانچ کے لیے وہ بھیجے گئے تھے، اور سزا کے طور پر انہیں بابل کے ایک کنویں میں الٹا لٹکا دیا گیا۔
یہ داستان سورہ البقرہ، آیت 102 سے جڑی ہے، جو بابل میں اتارے گئے دو فرشتوں کا حوالہ دیتی ہے جنہوں نے لوگوں کو جادو کی اقسام صرف اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر سکھائیں، پہلے خبردار کرتے ہوئے، 'ہم صرف ایک آزمائش ہیں، پس (اس علم کو غلط استعمال کر کے) کفر نہ کرو' — واضح کرتی ہے کہ یہ علم اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا، اور جنہوں نے اسے غلط استعمال کیا انہیں آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ملا۔
Definition
سبق کا ایک بڑا اخلاقی موضوع دنیاوی طاقت اور غرور کی ناپائیداری ہے: بخت نصر کبھی ایک مطلق العنان شہنشاہ تھا جس کی نظر زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکتی تھی، عراق، شام، اور ایران پر حکومت کرتا، اور اپنی شان دکھانے کے لیے شاندار محلات بناتا تھا۔ پھر بھی صدیوں بعد انہی کھنڈرات میں کھڑے ہو کر، مصنف دکھاتا ہے کہ یہ ساری شان و شوکت مکمل طور پر غائب ہو چکی ہے — مردہ بادشاہ کی عزت کا دفاع کرنے کے لیے نہ کوئی محافظ، تلوار، یا فوج باقی رہی، جبکہ آج کا ایک عام، آزاد آدمی بغیر خوف کے اس کا مذاق اڑا سکتا ہے۔ سکندرِ اعظم کی یہاں اچانک موت، فاتحانہ جشن کے کئی دنوں بعد، اسی سبق کو مضبوط کرتی ہے: کوئی دنیاوی رتبہ، کتنا ہی مطلق کیوں نہ ہو، مستقل نہیں۔
Definition
جاہ و جلال = شان و شوکت، رتبہ اور عظمت؛ شاہانہ نمود = بادشاہانہ دکھاوا؛ بامِ عروج = عروج کی بلندی؛ عروج و زوال = بلندی اور گراوٹ؛ دجلہ و فرات = دریائے دجلہ اور فرات؛ طرزِ تحریر = لکھنے کا انداز۔
مثال 1 — سابقوں اور لاحقوں سے نئے الفاظ بنانا
سابقہ 'خود' اور لاحقہ 'گار' استعمال کرتے ہوئے نئے الفاظ بنائیں۔
- سابقے کو موزوں جڑ کے لفظ سے ملائیں۔
- لاحقے کو موزوں جڑ کے لفظ سے ملائیں۔
Answer: خود + غرض = خودغرض؛ مدد + گار = مددگار
خلاصہ (Quick Recap)
- ●جمیل الدین عالی کے سفرنامے 'دنیا میرے آگے' سے؛ بغداد کے قریب بابل کے کھنڈرات کا سفر
- ●حمورابی (تقریباً 3,700 سال پہلے قانون کا پہلا ضابطہ) بابل تباہ بخت نصر (نبوکدنضر) نے شان بحال کی، جس نے اشتار گیٹ بنایا
- ●سکندرِ اعظم کئی دن جشن منانے کے بعد یہاں وفات پا گیا؛ بعد میں ایران کے سائرس نے بابل پر قبضہ کیا
- ●ہاروت اور ماروت کی داستان (کنویں میں سزا یافتہ فرشتے) سورہ البقرہ، آیت 102 سے جڑی ہے
- ●موضوع: دنیاوی طاقت کی ناپائیداری — بخت نصر کی مطلق حکومت نے صرف کھنڈرات چھوڑے جن کا ایک عام آدمی آزادانہ مذاق اڑا سکتا ہے
- ●ذخیرہ الفاظ: جاہ و جلال (شان)، عروج و زوال (بلندی اور گراوٹ)، دجلہ و فرات (دریائے دجلہ اور فرات)




