Definition
خارجہ پالیسی: وہ حکمتِ عملی اور اصول جن کے ذریعے کوئی ملک اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ دیگر ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے تعلقات چلاتا ہے۔
سفارتی تعلقات: سفارت خانوں/ہائی کمیشنز کے ذریعے قائم رسمی تعلقات، جن کے تحت تجارت، سلامتی، صحت، ماحولیات، سیاحت، ثقافت اور سائنس میں تعاون ہوتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مقاصد: اسلامی نظریے کا تحفظ اور مسلم ممالک سے تعلقات کی مضبوطی؛ قومی سالمیت و خودمختاری کا تحفظ؛ پاکستانی (اسلامی جڑوں والی) ثقافت کا فروغ؛ اور تعاون کے ذریعے اقتصادی ترقی۔ رہنما اصول: اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، ریاستوں کی مساوی خودمختاری، اور تنازعات کا پرامن حل۔
اہمیت: ہمسایہ ممالک (ایران، چین، افغانستان) سے علاقائی استحکام؛ مضبوط دفاع و اتحاد؛ تجارت/سرمایہ کاری؛ بیرونی مشنز کے ذریعے اقتصادی سفارت کاری؛ اور پاکستان کو ترقی پسند، معتدل مسلم قوم کے طور پر پیش کرنا۔
Definition
24 اکتوبر 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہوئی؛ پاکستان 30 ستمبر 1947ء کو رکن بنا۔
چھ ادارے: جنرل اسمبلی (تمام ارکان، ستمبر سے اجلاس، سلامتی کونسل کے غیرمستقل ارکان/ECOSOC ارکان کا انتخاب، بجٹ کی منظوری)؛ سلامتی کونسل (بین الاقوامی امن/سلامتی، 15 ارکان — 5 مستقل: امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس؛ 10 غیرمستقل 2 سال کے لیے؛ فیصلے کے لیے تمام مستقل ارکان سمیت 9 ووٹ درکار)؛ تولیتی کونسل (نوآبادیاتی علاقوں کی آزادی میں مدد، اب غیر فعال)؛ معاشی و سماجی کونسل/ECOSOC (54 ارکان، 3 سال؛ انسانی حقوق، معیارِ زندگی، غربت/بے روزگاری)؛ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ہیگ، 15 ججز، 9 سال؛ ریاستی تنازعات کا فیصلہ)؛ سیکریٹریٹ (سیکریٹری جنرل کی سربراہی میں، 5 سال، روزمرہ انتظام)۔
ویٹو: سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان کا خصوصی اختیار — کسی ایک کا منفی ووٹ بھی قرارداد ناکام بنانے کے لیے کافی ہے چاہے باقی سب متفق ہوں۔
مسئلہ فلسطین بڑی حد تک حل طلب اس لیے ہے کہ امریکا سلامتی کونسل میں اسرائیل کو ویٹو/سفارتی تحفظ دیتا ہے، جس سے اقوامِ متحدہ فیصلہ کن کارروائی نہیں کر پاتی، حالانکہ یہ جدید دور کا سب سے بڑا انسانی المیہ ہے۔
پاکستان کانگو، بوسنیا، سوڈان اور صومالیہ جیسے ممالک میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں سب سے زیادہ دستے فراہم کرنے والا ملک رہا ہے۔
Definition
1969ء میں رباط، مراکش میں قائم ہوئی، جب اسرائیلی انتہا پسندوں نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگائی؛ پاکستان نے اسلامی تعاون کانفرنس کی تجویز دی۔ صدر دفتر جدہ، سعودی عرب میں ہے۔
مسلم ممالک کو سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ پاکستان 1969ء سے فعال کردار ادا کر رہا ہے، دنیا بھر میں مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کرتا اور OIC میں کشمیری حقِ خودارادیت کی مسلسل آواز بلند کرتا ہے۔
پاکستان کے تقریباً تمام OIC ارکان، بشمول سعودی عرب، ایران، ترکیہ، انڈونیشیا، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر اور فلسطین، سے اچھے تعلقات ہیں۔
Definition
چین نے 1949ء میں اپنے قیام کے فوراً بعد پاکستان کو تسلیم کیا؛ 2025ء تعلقات کی 76ویں سالگرہ ہے۔ سرحد: ~599 کلومیٹر۔ تعلقات کو بین الاقوامی دوستی کی مثال کہا جاتا ہے — چین نے بھارت سے جنگوں میں پاکستان کا ساتھ دیا، بشمول آپریشن بنیان المرصوص کے بعد 2025ء کی جنگ۔
تعاون دفاعی پیداوار (خصوصاً طیارہ سازی) اور صنعت کاری تک پھیلا ہوا ہے۔ مرکزی منصوبہ سی پیک ہے، جو چین کے سنکیانگ کو سڑکوں، ریلوے، تیل کی پائپ لائنوں اور فائبر آپٹکس کے ذریعے گوادر بندرگاہ سے ملاتا ہے — چین کو مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کا مختصر راستہ دیتا اور پاکستان کی توانائی، صنعت، سیاحت اور روزگار کو فروغ دیتا ہے۔
Definition
آزادی (اگست 1947ء) کے فوراً بعد سفارتی تعلقات قائم ہوئے، مگر تعلقات عدم اعتماد اور متعدد جنگوں سے متاثر رہے، بنیادی طور پر کشمیر پر۔
پاکستان کا موقف: کشمیر متنازعہ علاقہ ہے جس کا فیصلہ 1949ء کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ رائے شماری سے ہونا چاہیے۔ بھارت کا موقف (بالخصوص اگست 2019ء میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد): کشمیر اس کا اٹوٹ اندرونی معاملہ ہے، بین الاقوامی ثالثی مسترد۔
دیگر کشیدگی: بھارت کا پاکستان کا Most Favoured Nation درجہ ختم کرنا اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا؛ 2025ء میں پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص کے بعد کشیدگی میں شدید اضافہ۔
ایک نادر مثبت پہلو: 2019ء کی کرتار پور راہداری، جو سکھ یاتریوں کو پاکستان میں ایک عبادت گاہ تک بلا ویزہ رسائی دیتی ہے۔
دیرپا امن کی راہ میں رکاوٹیں: حل طلب مسئلہ کشمیر، گہرا تاریخی عدم اعتماد، اور انہی تنازعات کے باعث دباؤ کا شکار تجارتی تعلقات۔
Definition
ایران (اسلامی جمہوریہ ایران؛ دارالحکومت تہران؛ زبان فارسی؛ کرنسی ریال) پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ اس کی پاکستان سے ~909 کلومیٹر سرحد ملتی ہے اور یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے جس کے پاس تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔
ای سی او (اقتصادی تعاون تنظیم) کے 10 رکن ممالک ہیں: پاکستان، ایران، ترکیہ، افغانستان، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان — علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دیتی ہے۔
Definition
دولتِ مشترکہ، 1926ء میں قائم، 56 ممالک کی رضاکارانہ تنظیم ہے جن کے تاریخی تعلقات سابقہ برطانوی سلطنت سے ہیں، سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی تعاون کرتی ہے۔
تجارت: برطانیہ پاکستان سے سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر کی اشیا (ٹیکسٹائل، چمڑا، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، گارمنٹس، چاول) درآمد کرتا ہے؛ پاکستان مشینری، کیمیکلز، فارماسیوٹیکلز اور تعلیمی/پیشہ ورانہ خدمات درآمد کرتا ہے۔ برطانیہ میں تقریباً 16 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جو سالانہ اربوں ڈالر بھیجتے ہیں۔
Definition
سارک (جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون)، 1985ء میں قائم، 8 رکن ممالک: پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان۔ مقاصد: باہمی اعتماد سے علاقائی فلاح و معیارِ زندگی بہتر بنانا، اور اجتماعی خود انحصاری سے اقتصادی، سماجی و ثقافتی ترقی تیز کرنا۔
ڈیورنڈ لائن پاکستان-افغانستان کی ~2611 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جسے سر ہنری مارٹیمر ڈیورنڈ نے حد بندی کی — دونوں حکومتوں کے مابین بعض اوقات کشیدگی کا باعث بنتی رہی ہے۔
پاکستان کے بری/بحری راستے (بالخصوص گوادر اور کراچی بندرگاہیں) اسٹریٹجک طور پر اہم ہیں، خشکی میں گھرے افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو سمندر تک رسائی دیتے اور علاقائی تجارت کو فروغ دیتے ہیں۔
خلاصہ (Quick Recap)
- ●خارجہ پالیسی قومی مفادات کا تحفظ کرتی ہے؛ پاکستان کے اہم مقاصد: اسلامی نظریہ، خودمختاری، ثقافت کا تحفظ، اقتصادی ترقی
- ●اقوامِ متحدہ (24 اکتوبر 1945ء؛ پاکستان 30 ستمبر 1947ء میں شامل): 6 ادارے — جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل (5 مستقل ارکان + ویٹو)، تولیتی کونسل، ECOSOC، عالمی عدالتِ انصاف، سیکریٹریٹ
- ●OIC 1969ء رباط میں قائم (مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کے بعد)، صدر دفتر جدہ؛ پاکستان کشمیر کے لیے فعال آواز
- ●چین: 1949ء سے دوستی (2025ء میں 76 سال)، سی پیک (سنکیانگ–گوادر)
- ●بھارت: مسئلہ کشمیر (اقوامِ متحدہ 1949ء کی قراردادیں بمقابلہ آرٹیکل 370 کی منسوخی 2019ء)؛ کرتار پور راہداری (2019ء) ایک نادر مثبت پہلو
- ●ایران (پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک) اور ای سی او (10 ارکان)؛ دولتِ مشترکہ (1926ء، 56 ممالک) اور برطانیہ سے تجارت (~3 ارب ڈالر)
- ●سارک (1985ء، 8 ارکان)؛ ڈیورنڈ لائن (~2611 کلومیٹر، پاکستان-افغانستان)




