Punjab Board · New syllabus 2026

10th Class English Chapter 1 Notes

Social Reforms for Women, Orphans, and Slaves · in Urdu

Definition

اسلام سے پہلے عرب (دورِ جاہلیت) میں، عورتوں، یتیموں، اور غلاموں کے پاس عموماً بہت کم حقوق تھے: عورتوں کو جائیداد کی طرح وراثت میں لیا جا سکتا تھا، وراثت میں ان کا کوئی یقینی حصہ نہیں تھا، اور کچھ قبائل میں بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا؛ یتیموں کی جائیداد سرپرست بغیر جوابدہی کے ہڑپ کر سکتے تھے؛ اور غلاموں کو سخت یا ظالمانہ سلوک سے کوئی قانونی تحفظ نہیں تھا۔


نبی کریم ﷺ کی اصلاحات، جو براہ راست قرآن کی رہنمائی میں تھیں، ان میں سے ہر گروہ کو خاص طور پر مخاطب کرتی تھیں — اپنے وقت اور جگہ کے لیے انقلابی حقوق قائم کرتی تھیں۔

Definition

عورتوں کے لیے متعارف کروائے گئے تین مخصوص حقوق: وراثت میں ایک یقینی، متعین حصہ (پہلے عورتوں کو عموماً کچھ نہیں ملتا تھا)، اپنی جائیداد اور آمدنی کی خود مالک بننے اور آزادانہ نگرانی کا حق، اور شادی کی رضامندی کا حق (بغیر کچھ کہے صرف دے دیے جانے کی بجائے)۔


قرآن نے ان اصلاحات کی براہ راست رہنمائی کی — مثلاً، خواتین رشتہ داروں کے لیے مخصوص وراثتی حصے بیان کرنے والی آیات (سورہ النساء)، اور بچیوں کو زندہ دفن کرنے کی مذمت کرنے والی آیات، جو مل کر ان اصلاحات کو مضبوط صحیفائی اختیار دیتی ہیں، محض سماجی رواج کی بجائے جسے بعد میں بدلا جا سکتا۔

Definition

قرآن نے یتیموں کی جائیداد اور حقوق کی حفاظت پر بہت زور دیا — سرپرستوں کو یتیم کی دولت کھانے یا اسے غلط طریقے سے سنبھالنے سے خبردار کیا، اور یہ لازم کیا کہ یتیم کے بالغ ہونے پر یہ مکمل طور پر اسے واپس کی جائے۔ اس نے یتیموں کو سرپرستوں کے استحصال سے کمزور ہونے سے بدل کر ایک ایسا گروہ بنا دیا جن کے حقوق واضح طور پر، مذہبی طور پر محفوظ تھے۔

Definition

نبی کریم ﷺ نے غلاموں کی آزادی کو فروغ دیا یہ سکھا کر کہ غلام آزاد کرنا نیکی کا ایک انتہائی اجر والا عمل ہے، اور کچھ غلطیوں کے کفارے کے طور پر غلام آزاد کرنا مقرر کر کے — اچھی مذہبی حیثیت کو براہ راست غلامی کم کرنے سے جوڑتے ہوئے۔


ابھی بھی غلامی میں موجود غلاموں کے انسانی سلوک کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں یہ سکھانا شامل تھا کہ غلاموں کو ویسے ہی کھلایا اور پہنایا جائے جیسے مالک خود کھاتے پہنتے ہیں، اور زائد یا ظالمانہ سزا کو واضح طور پر منع کرنا — انہیں، نبی کریم ﷺ کے اپنے الفاظ میں، محض جائیداد کی بجائے گھر کے افراد کی طرح سمجھنا۔

Remember

ان اصلاحات کی اقدار آج کے سماجی انصاف سے مطابقت رکھتی ہیں: یہ اصول کہ کمزور گروہوں (عورتوں، بچوں، اور معاشی طور پر کمزوروں) کو خاص، قابلِ نفاذ قانونی تحفظ ملنا چاہیے، ان لوگوں کی نیک نیتی پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے جن کے پاس ان پر طاقت ہے — یہی اصول آج کے زیادہ تر انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کے قانون کی بنیاد میں ہے۔

Definition

تشبیہ (Simile): 'like' یا 'as' استعمال کرتے ہوئے براہ راست موازنہ — مثلاً 'howling like a hungry wolf'۔


استعارہ (Metaphor): 'like'/'as' کے بغیر ایک تاثراتی موازنہ، ایک چیز کو براہ راست دوسری کے طور پر بیان کرنا — مثلاً 'his courage had turned to stone'۔


تشخیص (Personification): کسی غیرانسانی چیز کو انسانی خصوصیات دینا — مثلاً 'the old house groaned in protest'۔


صوتی تقلید (Onomatopoeia): ایک لفظ جو اپنی بیان کردہ آواز کی نقل کرتا ہے — مثلاً 'Crash!'۔


مبالغہ (Hyperbole): اثر کے لیے جان بوجھ کر، واضح مبالغہ، لفظی معنی نہیں — مثلاً 'this storm is going to bury us alive!'۔


متضاد الفاظ (Oxymoron): دو متضاد اصطلاحات ساتھ رکھی گئیں — مثلاً 'bitter sweetness'۔


محاورہ (Idiom): ایک فقرہ جس کا مطلب لفظی نہیں مگر روایت سے سمجھا جاتا ہے — مثلاً 'in over my head' (مطلب مغلوب ہونا، جتنا سنبھالا جا سکے اس سے زیادہ کا سامنا کرنا)۔

Remember

کسی غیرمانوس لفظ (جیسے 'pummel') کا مطلب سیاق و سباق سے معلوم کرنے کے لیے، ارد گرد کے اشارے دیکھیں: قریبی اعمال، جملے کا عمومی موڈ، اور اقتباس میں باقی سب کچھ دیکھتے ہوئے منطقی طور پر کیا معنی بنتا ہے — یہ سیاقی اندازہ لگانے کی مہارت صرف لغت دیکھنے سے طویل مدت میں زیادہ قابلِ اعتماد اور مفید ہے۔

Definition

پیراگراف پروف ریڈ کرتے وقت، منظم طریقے سے چیک کریں: بڑے حروف (جملے کا آغاز، ضمیر 'I'، خاص نام)، فعل کے زمانے کی مطابقت (بیانیے میں ماضی/حال یکساں رکھنا)، فاعل-فعل مطابقت (مثلاً 'we were'، 'we was' نہیں)، بے قاعدہ فعل کی درست شکلیں (مثلاً سادہ ماضی کے طور پر 'saw' نہ کہ 'seen')، اور اوقاف (کوما، فل سٹاپ، اپاسٹروفی)۔

Definition

ہائفن دو الفاظ کو کسی اسم سے پہلے ایک واحد وضاحتی اکائی کے طور پر ایک ساتھ جوڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے (ایک مرکب موصوف) — مثلاً 'a part-time job' اور 'the check-in desk' دونوں کو ہائفن چاہیے، کیونکہ 'part time' اور 'check in' ہر ایک بعد میں آنے والے اسم کو تبدیل کرنے والے ایک مشترکہ وضاحتی خیال کا کام دے رہے ہیں۔

خلاصہ (Quick Recap)

  • ●اسلام سے پہلے عرب: عورتوں/یتیموں/غلاموں کے پاس کم محفوظ حقوق تھے
  • ●عورتیں: یقینی وراثتی حصہ، جائیداد کی ملکیت کا حق، شادی کی رضامندی کا حق — براہ راست قرآنی آیات پر مبنی
  • ●یتیم: جائیداد سرپرست کی غلط نگرانی سے محفوظ، بلوغت پر مکمل واپس
  • ●غلام: آزادی کی حوصلہ افزائی/اجر (اور کفارے کے طور پر مقرر)؛ انسانی سلوک (خوراک، لباس، زائد سزا نہیں) لازمی
  • ●تشبیہات و استعارات: تشبیہ، استعارہ، تشخیص، صوتی تقلید، مبالغہ، متضاد الفاظ، محاورہ — فرق جانیں
  • ●سیاق و سباق سے لفظی معنی: صرف لغت نہیں، ارد گرد کے اشارے استعمال کریں
  • ●پروف ریڈنگ: بڑے حروف، زمانے کی مطابقت، فاعل-فعل مطابقت، بے قاعدہ فعل، اوقاف
  • ●ہائفن اسم سے پہلے مرکب موصوف جوڑتا ہے (مثلاً 'part-time job'، 'check-in desk')

Keep going

More 10th Class English notes

All 10th Class English chapters