Rule
الکلی میٹلز کی ری ایکٹیویٹی گروپ میں اوپر سے نیچے آنے پر بڑھتی ہے — واحد بیرونی الیکٹرون بتدریج نیوکلیس سے دور ہوتا جاتا ہے اور اسے کھونا آسان ہو جاتا ہے، لہٰذا میٹل زیادہ آسانی سے ری ایکٹ کرتی ہے۔
Remember
الکلی میٹلز گروپ میں نیچے آتے ہوئے بتدریج نرم ہوتی جاتی ہیں کیونکہ اٹامک سائز بڑھنے سے ایٹمز کے مابین کشش (میٹلک بانڈ) کمزور ہو جاتی ہے — اسی لیے گروپ میں نیچے انہیں کاٹنا آسان ہو جاتا ہے اور ان کے میلٹنگ پوائنٹس بھی کم ہو جاتے ہیں۔
لیتھیم کی خصوصیات باقی الکلی میٹلز سے کچھ مختلف ہیں کیونکہ اس کا سائز بہت چھوٹا ہے، جس سے اس کے ایٹمز کے درمیان کشش غیر معمولی طور پر مضبوط ہے اور اس کے کچھ ری ایکشنز اور کمپاؤنڈز دوسرے گروپ (میگنیشیم) سے زیادہ ملتے جلتے ہیں۔
Rule
ہیلوجنز کی ری ایکٹیویٹی گروپ میں اوپر سے نیچے آنے پر کم ہوتی ہے — بیرونی شیل مکمل کرنے کے لیے درکار الیکٹرون بتدریج نیوکلیس سے دور ہوتا جاتا ہے، اس لیے اسے کھینچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہیلوجنز کی آکسیڈائزنگ طاقت بھی گروپ میں نیچے کم ہوتی جاتی ہے۔
Remember
یہ مخالف رجحانات (الکلی میٹلز نیچے زیادہ ری ایکٹیو، ہیلوجنز نیچے کم ری ایکٹیو) ایک ساتھ سمجھ آتے ہیں: الکلی میٹلز الیکٹرون کھو کر ری ایکٹ کرتی ہیں (نیوکلیس سے دور ہو تو آسان)، ہیلوجنز الیکٹرون حاصل کر کے ری ایکٹ کرتی ہیں (نیوکلیس کی کشش مضبوط ہو تو آسان)۔
مثال 1 — ہیلوجنز کی ری ایکٹیویٹی کا موازنہ
کلورین اور برومین کا بطور آکسیڈائزنگ ایجنٹ موازنہ کیجیے۔
- کلورین گروپ میں برومین سے اوپر ہے، لہٰذا اس کا بیرونی شیل نیوکلیس کے زیادہ قریب ہے۔
- نیوکلیس کی زیادہ مضبوط کشش کی وجہ سے کلورین الیکٹرون زیادہ آسانی سے حاصل کرتی ہے (یعنی دوسری اشیا کو آکسیڈائز کرتی ہے)۔
Answer: کلورین زیادہ طاقت ور آکسیڈائزنگ ایجنٹ ہے
Rule
میٹلز: عموماً سخت اور مضبوط، چادروں اور تاروں میں ڈھلنے والی، بجلی اور حرارت کی اچھی کنڈکٹر — میٹلک بانڈ کے آزاد الیکٹرونز کی وجہ سے۔
نان میٹلز: ٹھوس ہوں تو عموماً بھربھری، ورنہ گیس یا مائع حالت میں؛ بجلی کی نان کنڈکٹر — ان کے کوویلنٹ بانڈز میں آزاد الیکٹرونز موجود نہیں ہوتے۔
Remember
ٹرانزیشن ایلیمنٹس نارمل ایلیمنٹس سے مختلف ہیں کیونکہ ان میں بیرونی شیل سے اندر والا شیل نامکمل ہوتا ہے — یہ سب میٹلز ہیں، عموماً سخت ہوتی ہیں اور ان کی ڈینسٹی زیادہ ہوتی ہے، یہ ایک سے زیادہ آکسیڈیشن سٹیٹس ظاہر کرتی ہیں، ان کے کمپاؤنڈز اکثر رنگین ہوتے ہیں، اور یہ اور ان کے کمپاؤنڈز بطور کیٹالسٹ استعمال ہوتے ہیں۔
خلاصہ (Quick Recap)
- ●الکلی میٹلز: گروپ میں نیچے ری ایکٹیویٹی بڑھتی ہے (الیکٹرون کھونا آسان)؛ نیچے نرم ہوتی جاتی ہیں
- ●ہیلوجنز: گروپ میں نیچے ری ایکٹیویٹی کم ہوتی ہے (الیکٹرون حاصل کرنا مشکل)
- ●میٹلز: سخت، اچھی کنڈکٹر، چادروں/تاروں میں ڈھلنے والی (آزاد الیکٹرونز)۔ نان میٹلز: بھربھری/گیس، نان کنڈکٹر
- ●ٹرانزیشن ایلیمنٹس: ایک سے زیادہ آکسیڈیشن سٹیٹس، اکثر رنگین کمپاؤنڈز، بطور کیٹالسٹ استعمال




